ابنا: وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے ارنا سے گفتگو میں کہا کہ آج ایسا کوئي طریقہ کار نہیں ہے جس سے ایٹمی طاقتوں کو ترک اسلحہ پر مجبور کیا جاسکے کیونکہ ایٹمی طاقتیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکن بھی ہيں اور دنیا کے مسائل میں وہ ہی فیصلے کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کااعتراض یہی ہے کہ انتظام عالم کی روشیں غیر منصفانہ اور بڑی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کی راہوں پر استوارہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوہزار دس میں نیویارک میں منعقدہ ترک اسلحہ کانفرس میں اسلامی جمہوریہ ایران اور ناواسبتہ تحریک نے ایک ہوکر متعدد مسائل کو بڑی صراحت سے پیش کیا ہے۔ وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے کہا کہ پائدار امن عالمی سطح پر پیش کیا گيا نیا آئیڈیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی ترک اسلحہ، خلامیں اسلحہ کی دوڑ کی ممانعت، غیر ایٹمی ملکوں کو ایٹمی ملکوں کی طرف سے ایٹمی ہھتیاروں کے استعمال کی دھمکیوں گی ممانعت اور ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال کے لئے فیوژن کے قابل مادوں گی پیداوار پرپابندی ایسے چار مسائل ہیں جنہیں ملکوں کی جانب سے ایٹمی ترک اسلحہ کی غرض سے پیش کيا گيا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110